آج کی آیت پر خیالات

جبکہ بہت سے اس اقتباس کو ڈاکڑ مارٹن لوتھر کنگ سے منسوب کرتے ہیں۔ یہ درحقیقیت عامُوس نے کھلے عام کہے تھے جو کہ خُدا کا پیامبر جو کہ ڈاکڑ مارٹن لوتھر کنگ سے 2600 سال پہلے تھا۔ خُدا چاہتا ہے کہ اُس کے لوگ جانیں کہ اگر وہ ہمدردی، کردار، اور فکر کو زندگی کا حصہ نہیں بناتے تو اُن کی مذہبی زیارت، اُن کی قربانی کی نذریں، اور اُس کے لیے اُن کے گیت کوئی معنی نہیں رکھتے۔ شمالی اسرائیل کے لوگ عامُوس پر ایمان نہیں رکھتے اور توبہ نہیں کرتے تھے۔ نا صرف بہت سال کے بعد، وہ بُری طرح تباہی کا شکار ہوئے کیونکہ خُدا نے اُن کی منافقت، ناانصافی، اور قابل مذمت کمزور کو تنگ کرنا تلاش کرلیا۔ لیکن ہم اب جیتے ہیں اور یہ الفاظ آج بھی اتنے طاقتور اور واضح ہیں جتنے تب تھے! ہمارا جواب کیا ہونا چاہیئے؟

میری دعا

اے قادرِ مطلق خُدا، تیرے بہت سے فرزند آج ہماری دنیا اور ہماری قوموں میں غیر راستبازی کی وجہ سے شرمندہ ہیں۔ ہمیں کردار کی نئی پیدائش کی راہنمائی کےلیے استعمال کر۔ اور اے باپ، جیسا کہ ہم پاک زندگی گزارنا سیکھتے ہیں، ہماری آنکھیں نہ صرف کردار پر رکھ، بلکہ ہمدردی، رحم، مہربانی اور فضل کی طرف بھی رکھ تاکہ ہم اُن کے ساتھ وہ خوبیاں شئیر کر سکیں جو تیری محبت کو جاننا اور تیری نجات کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یسُوع کے نام میں مانگتا ہوں۔ آمین۔

آج کی آیت پر دعا اور خیالات فل وئیر لکھتے ہیں

اظہارِ خیال