آج کی آیت پر خیالات

خُدا صرف نجات کےلیے ہماری آہوں کو نہیں سنتا؛ اُس نے ایک قوت بخش نجات دہندہ بھیجا! خُدا نے مصر کے اسرائیلیوں کی آہوں کے بدلے اُن کے پاس موسیٰ کو بھیجا( دیکھیں خروج 3 باب)۔ خُدا نے تاریکی اور بدی کے شہنشاہ سے نجات کے لیے دُنیا کی آہوں کے بدلے میں یسُوع کو بھیجا۔ ہماری نئی دُنیا، ہماری نئی سلطنت، محبت پر بنائی گئی ہے—نجات دہندہ کی قربان محبت جس نے نہ صرف ہمارے لیے موت پر فتح پائی، بلکہ یہ کرنے کےلیے اپنے آپکو پیش کیا۔ یسُوع نہ صرف ہمیں بچانے والا ہے(کسی چیز سے بچانے والا)، وہ ہمارا نجات دہندہ ہے(کسی چیز کےلیے بچانےوالا)۔

Thoughts on Today's Verse...

God doesn't just hear our cries for deliverance; he sends a powerful Deliverer! God sent Moses in response to the Israelites' cries from Egypt (see Exodus 3). God also sent Jesus in response to the world's cries for deliverance from its bondage to the evil prince of darkness. Our new world, our Kingdom, is built on love — the sacrificial love of a Savior who not only conquered death for us, but gave himself up to do so. Jesus is not only our rescuer (saves us FROM something), he is also our Savior (also saves us FOR something as well)!

میری دعا

پیار کرنے والے اور ابدی خُدا، اے یسُوع تُو میرے بشری اور محدود دنیا میں آیا اور مجھے انسانی حدود سے بچایا۔ تیرا شُکر ہو کہ تُو نے موت کے گلہ گھونٹنے والی پکڑ کو توڑا۔ تیرا شُکر ہو کہ تُو نے محبت کو استعمال کرتے ہوئے رکاوٹوں کو توڑا جو مجھے تجھ سے دُور کر رہی تھی۔ مجھے بچانے اور اپنے خاندان اور سلطنت میں لانے کےلیے تیرا شُکر ہو۔ یسُوع کے نام میں تجھے اپنی شُکرگزاری، خدمت پیش کرتا ہوں۔ آمین۔

My Prayer...

Loving and eternal God, in Jesus you reached down to my limited and mortal world and rescued me from its mortal limits. Thank you for breaking the strangle hold of death. Thank you for using love to break down the barriers that kept me from you. Thank you for rescuing me and bringing me into your family and your Kingdom. I offer you my thanks, service, and praise in Jesus' name. Amen.

آج کی آیت پر دعا اور خیالات فل وئیر لکھتے ہیں

Today's Verse Illustrated


Inspirational illustration of کُلسیوں 1 باب 13 آیت

اظہارِ خیال