آج کی آیت پر خیالات

جو آپ کرتے ہیں وہ کرنے کے لیے آپ کو کیا چیز ابھارتی ہے؟ کیا چیز آپ کو کام کو پورا کرنے، مکمل کرنے، اور اُس سے بڑھ کر کیا چیز آپ کو ابھارتی ہے؟ پولُس کہتا ہے کہ محبت اُس کی توجہ دلانے کی قوت ہے۔ہمارے زندگیوں میں کیا ہو اگر محبت ہماری تحریک اور رویے میں توجہ کا عنصر بن جائے۔ کیا ہو اگر اُن کو جو کہ یسُوع کے بچانے کے فضل کو نہیں جانتے ہماری محبت کرنے کی خواہش تمام کی ہو جائے- محبت میں فکری تصرف کو نکالتے ہوئے؟ وہ مُؤا اِس لیے یہ ہوا! آئیں اُس کو مایوس نہ کریں۔

Thoughts on Today's Verse...

What motivates you to do what you do? What drives you to accomplish, to achieve, and to pursue even more? Paul said that love was his compelling force. What would happen in our lives if love was truly THE compelling factor in our motivation and behavior? What if our desire to love those who do not know Jesus' saving grace became our all-consuming concern out of love? He died so that it would be! Let's not disappoint him.

میری دعا

ابدیت کے خُدا، میرا ساتھ دے جیسا کہ میں نے محبت کو اپنی زندگی میں ابتدائی توجہ کی تحریک بنایا ہے۔ میں یسُوع کو اپنا پیار دکھانا چاہتا ہوں اور جو کچھ اُس نے مجھے بچانے کے لیے کیا ہے اُس کے لیے اُس کی تعریف کرنا چاہتاہوں۔ میں یسُوع کے لیے جینا چاہتا ہوں تاکہ دُوسرے جانیں کہ وہ میری زندگی کا خُداوند ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ میری زندگی اور میرے الفاظ دُوسروں کے ساتھ محبت کا اظہار کریں تاکہ وہ سچائی سے اِسکا تجربہ کریں اور اُس کو جانیں۔ جیسا کہ میں نے اِس مقصد کا تعین کیا ہے تُو براہ کرم میری مدد کر۔ یسُوع کے نام میں مانگتا ہوں۔ آمین۔

My Prayer...

God of eternity, please be with me as I seek to allow love to be my primary compelling motivation in life. I want to show Jesus my love and appreciation for all that he has done to save me. I want to live for Jesus so others know he is Lord of my life. I want my words and life to show his love to others so they can truly experience it and come to know him. Please bless me as I pursue this goal. In Jesus' name I pray. Amen.

آج کی آیت پر دعا اور خیالات فل وئیر لکھتے ہیں

Today's Verse Illustrated


Inspirational illustration of دُوسرا کرنتھیوں 5 باب 14 تا 15 آیت

اظہارِ خیال