آج کی آیت پر خیالات

ہمارے طوفانوں اور دہشت کے بیچ، یسُوع صرف انتظارکرتے ہوئے ہمارے پاس سے گزرتا ہے،کہ وہ ہمارے ڈر اور ضرورت کو پہچان سکے، تاکہ وہ ہمارے بدترین خوابوں اور مدد کے لیے ہمارے ساتھ شامل ہو سکے۔. ناقابل یقین حد تک، یسُوع کے الفاظ یہاں پر یقینی طور پر "حوصلہ بخش ہیں! میں ہوں" یسُوع نے خروج 3 باب میں اپنے آپ کو میں ہوں کے طور پر موسیٰ کے سامنے ظاہر کیا،موسیٰ کو یہ یاد دلاتے ہوئے کہ وہ اسرائیلیوں کی پکار کو سنتا ہے اور اُن کی مشکلات کو دیکھتا اور اُن کی مدد کو نیچے آتا ہے۔ یسُوع نے ہمارے لیے ویسا ہی کیا۔

Thoughts on Today's Verse...

In the middle of our storms and terror, Jesus passes close by, just waiting for us to acknowledge our fear and need, so that he can join us in our worst nightmares and help us through. Incredibly, Jesus' words here are literally, "Take courage! I Am." God revealed himself to Moses in Exodus 3 as I Am, reminding Moses that he heard the cry of the Israelites and had seen their hardship and was now coming down to help them. Jesus does the same for us!

میری دعا

اے خُدا، تیرا شُکر ہو، نا صرف وہاں موجود ہونے کےلیے، بلکہ قریب ہونے کےلیے—میری تکلیف اور خوف کی پکار میں ہر وقت جواب دینے کے لیے انتظار کرتے ہوئے۔ تُجھے اور خُداوند یسُوع کو اپنی روز مرہ زندگی میں کردار ادا کرنے کےلیے نہ بلانے کےلیے مجھے معاف کر دے۔ میں جانتا ہوں کہ تُو قریب ہے، چنانچہ میں مانگتا ہوں کہ نہ صرف اپنی حضوری کو میرے سامنے ظاہر کر، بلکہ تُو حلیمی سے تب میرے سامنے آ جب میں تُجھے اپنی روز مرہ کی زندگی کے علاقہ میں شامل کروں۔ یسُوع کے نام میں مانگتا ہوں ۔آمین۔

My Prayer...

Thank you, O God, for not only being there, but being close by — always waiting to respond to my cry of distress and fear. Forgive me for not inviting you and the Lord Jesus daily into a more active role in my life. I know you are near, so I ask that you not only make your presence known, but that you will gently confront me when I push you to the periphery of my daily life. In the name of Jesus I pray. Amen.

آج کی آیت پر دعا اور خیالات فل وئیر لکھتے ہیں

Today's Verse Illustrated


Inspirational illustration of مرقس 6 باب 49 تا 50 آیت

اظہارِ خیال